بھلا سر پھٹول اِن کی خاطر ہے کیوں دوستو!
نہیں رینگتی جس کے کانوں میں جُوں دوستو!
یہ سوچو! ارے!!
تمھارے لئے
کبھی یہ لڑے
خدا سے ڈرو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

جو لیڈر ہے ذاتی مفادات کا یار ہے
شکم ہی وہ نقطہ ہے جس کی یہ پُرکار ہے
یوں پل پل پڑیں
جو کھاپے دِکھیں
سبھی ایک ہیں
نہ باہم لڑو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

رہے ہیں سیاسی جماعتوں میں کب فاصلے
سو لیڈر بھی لوٹوں کی صورت لڑھکنے لگے
اِدھر یا اُدھر
یہ جائیں جدھر
لگے اپنا گھر
میاں چھوڑ دو ۔۔۔۔ اجی بس کرو

—-

کسی بھی ازم سے کسی کو کہاں کام ہے
نظریہ بھلا کون سی چڑیا کا نام ہے
یہ رطلِ گراں
کسی سے یہاں
اُٹھے گا کہاں
اے دیدہ ورو! ۔۔۔۔ اجی بس کرو

Advertisements