شاعر بنے تو ساتھ ہی نقاد ہم ہوئے
یوں آپ اپنے ہاتھ سے ایجاد ہم ہوئے

بیکار تھے سو عشق بھی کرنا تھا لازمی
شیریں تھا اُس کا نام سو فرہاد ہم ہوئے

کچھ اور بن نہ پائے کہ میرٹ کی بات تھی
سرکاری درسگاہ میں استاد ہم ہوئے

تم ہم کو پی ٹی آئی کا ورکر نہ جان لو
"یہ سوچ کر نہ مائلِ فریاد ہم ہوئے”

دوچار جامعات سے سودا بنا لیا
دولت ملی تو صاحبِ اسناد ہم ہوئے

لوہے کے کاروبار کو آگے بڑھا لیا
کہتے ہیں پولیٹکس میں فولاد ہم ہوئے

بس قد بڑھانے کے لئے نسخہ یہی ملا
بونوں کے درمیاں تو شمشاد ہم ہوئے

بیلنس کے واسطے ہی سہی فون تو کیا
صدشکر ہے کہ آپ کو کچھ یاد ہم ہوئے

شادی شدہ تھے شادی شدوں کی طرح رہے
کب رائے دینے کے لئے آزاد ہم ہوئے

Advertisements