جو سرمایہ نہیں رکھتے تجارت کر نہیں سکتے
نہ ہوں جب دام پلے تو سیاست کر نہیں سکتے

عوام الناس کی جو لیڈرانِ قوم کرتے ہیں
کبھی حجام تو ایسی حجامت کر نہیں سکتے

نہ ہو جب کیمرہ ، امداد بھی بانٹی نہیں جاتی
اگر کوریج نہ ہو تو قوم کی خدمت کر نہیں سکتے

جو سچ کو ہی نہ جھٹلائیں تو کالے کوٹ کیوں پہنیں
جو منہ پر جھوٹ نہ بولیں وکالت کر نہیں سکتے

محلے والے گردن ناپنے کو آ ٹپکتے ہیں
سو اب استاد جی کھل کر ریاضت کر نہیں سکتے

بچا کر ہاتھ پاﺅں عشق فرماتے ہیں اب عاشق
کبھی مجنوں میاں جیسی حماقت کر نہیں سکتے

جو منہ میں گھنگھیاں نہ ڈال پائیں، ملک تو کیا ہے
کسی بزمِ سخن کی بھی صدارت کر نہیں سکتے

محبت جس کو کہتے ہیں، یہ ایسی قید ہوتی ہے
کہ ہم تم جس میں تدبیرِ ضمانت کر نہیں سکتے

سیاسی شیر ہیں جو باریوں پر ہو گئے راضی
جو اصلی شیر ہیں وہ تو شراکت کر نہیں سکتے

اُدھر پنکی ہے جو ماں باپ سے کُٹ کھا نہیں سکتی
اِدھر ہم ہیں کہ دنیا سے بغادت کر نہیں سکتے

نجانے شوق سے کیوں ووٹ دیتے ہیں الیکشن میں
اگر ہم جان کر کارِ حماقت کر نہیں سکتے

شریفوں کے لئے تو ملک بھی لوہے کی بھٹی ہے
حکومت کر رہے ہیں گو حکومت کر نہیں سکتے

پئے تحریف غزلیں آپ دامن گیر ہوتی ہیں
وگرنہ نغزگو ایسی شرارت کر نہیں سکتے

Advertisements