اُن کی محفل میں بہت جن کو مچلتے دیکھا
اُن کو ماتھے پہ لگاتے ہوئے "پلتے” دیکھا

لوگ کہتے تھے کہ کنسرٹ ہے سنگر کا مگر
ہم نے اسٹیج پہ بندر کو اچھلتے دیکھا

بیویاں میکے سے واپس بھی پلٹ آتی ہیں
ایسی آفت کو وظیفوں سے نہ ٹلتے دیکھا

اُلٹے قدموں سے میں آیا تھا جہاں سے واپس
اپنے قدموں کو اُسی راہ پہ چلتے دیکھا

منہ سے شعلوں کو نکالا ہے مداری نے عبث
ہم نے لیڈر کو تو ہر روز اُگلتے دیکھا

کوچہء یار میں رکھتے نہیں وکھری ٹائپ
ہم بھی پھسلیں گے جو اوروں کو پھسلتے دیکھا

اشک خاتون کی آنکھوں میں جہاں بھی آئے
دیکھتے دیکھتے پتھر کو پگھلتے دیکھا

کارِ الفت میں بھلا عشق کے ناخن کیا لیں
افلاطونوں کو بھی جب اس پہ "چولتے” دیکھا

بزمِ یاراں میں بہ عنوانِ لطیفہ بازی
اک گٹر تھا کہ جسے ہم نے اُبلتے دیکھا

اور ہی کوئی اُڑا لے گیا پنکی کو ظفر
ہم بھی ششدر ہیں، رقیبوں کو بھی جلتے دیکھا

Advertisements