داماد کو فٹبال بنایا نہیں کرتے
تنگ اُس پہ یوں سسرال بنایا نہیں کرتے

بچوں کے سوا بھی ہیں پروجیکٹ بہت سے
ماڈل نیا ہر سال بنایا نہیں کرتے

تم خود ہی زمیں بوس نہ ہو جانا الجھ کر
اوروں کے لئے جال بنایا نہیں کرتے

مہمان تو آیا نہیں گھر میں کوئی بیگم
ہر روز یونہی دال بنایا نہیں کرتے

ہر لعل اُڑاتے نہیں زنبیلِ ہنر کا
ابلیس کو کنگال بنایا نہیں کرتے

یادوں کی ادا کرتے ہیں کچھ آپ بھی قیمت
ہر کال کو مس کال بنایا نہیں کرتے

دعویٰ بھی وہ کرتے ہیں محبت کا مسلسل
سیلفی بھی مرے نال بنایا نہیں کرتے

آ سکتے ہیں عشاق تری کار کے نیچے
یوں چال کو بھونچال بنایا نہیں کرتے

سچائی میں مرچیں تو بہرحال ملیں گی
اس بات پہ منہ لال بنایا نہیں کرتے

Advertisements