وہ کاٹھ کے اُلو ہیں اگر میری نظر میں
ویسا ہی نظر آتا ہوں اُن کو بھی ڈفر میں

دفتر میں یونہی رعب جماتے نہیں صاحب
گھر والی سے جوتے بھی تو کھاتے ہیں وہ گھر میں

اس دور میں بس صاحبِ ادراک وہی ہے
ہربات جو کرتا ہے اگر میں یا مگر میں

جا جا کے رقیبوں سے پٹے ہیں سرِ راہے
“دیوانے کبھی چین سے رہتے نہیں گھر میں”

گھر والی نے پنڈال بنا رکھا ہے گھر کو
رہتا ہوں ہمہ وقت میں ہنگامِ غدر میں

رانجھے کے موبائل میں بھی نمبر ہے اُسی کا
مجنوں ہی گرفتار نہیں لیلٰی کے شر میں

محبوبہ مہکتی سی لہکتی سی غزل ہے
اور ہجو ہے بیوی کسی شوہر کی نظر میں

اب اُس سے گلہ کوئی کرے بھی تو کرے کیا
وہ شوخ ستم کو بھی سمجھتا ہے ہنر میں

کیا تجھ سے سنیں شعر سرِ بزمِ سخن ہم
مرچیں سی ملائی ہیں ظفر تونے شکر میں

Advertisements