نوجواں کیسے بچیں سسرالیوں کی گھات سے
مینڈکی بچ پائی ہے کب نزلہء برسات سے

المیہ ہے ، اس کی سچائی کے ہیں سارے گواہ
متفق کوئی نہیں ہے آئینے کی بات سے

کیوں نہیں ہوتا اثر میری کسی بھی بات کا
کیا خبر کہ دل بنا ہے یار کا کس دھات سے

جب کسی شادی شدہ نے ان کو گائیڈ کر دیا
تیر ہو جائیں گے مجنوں بھائی بھی بارات سے

آدمی تم میں سے کوئی بھی نظر آتا نہیں
سچ کہو تم سب کی نسبت تو نہیں جنات سے

اپنی آئی پر جب آجائے تو چلتا ہے پتہ
میری بیوی کم نہیں ہے ملکہ ء جذبات سے

تادمِ تحریر ایسی جنس دنیا میں نہیں
کہ پکارا جائے جس کو لفظ "مستورات” سے

رابطے مفقود ہوں تو بات بن سکتی نہیں
بات کر ظالم کہ کوئی بات نکلے بات سے

لال  پیلے چینلوں کی زد میں ہیں آئے ہوئے
اب مفر حاصل ہے کس کو آگہی کی لات سے

اینڈھتے پھرتے ہیں وہ لنڈے کے کپڑے پہن کر
ڈر ہے کہ باہر نہ ہو جائیں کہیں اوقات سے

شعر کیا پوری غزل اٹکی ہوئی ہے غالباً
پیٹ میں یونہی اپھارا سا نہیں ہے رات سے

ہیں ظفر صاحب بھی کچھ نہ کچھ پڑھے لکھے مگر
مطلقاً لگتے نہیں حرکات سے سکنات سے

Advertisements