اب نہیں جاتے اُس گلی میں ہم
آ گئے ہیں کسی تڑی میں ہم

تم سے کہہ دیں تو بلوہ ہو جائے
سوچتے ہیں جو جی ہی جی میں ہم

ہائے چکنے گھڑے ہیں ہم کتنے
مسکراتے ہیں اس صدی میں ہم

ہیں ہماری ثقافتوں کے امیں
جن کو کہتے ہیں ہی نہ شی میں ہم

عقدِ ثانی کی کوششوں میں ہیں
انٹرسٹڈ ہیں خودکشی میں ہم

اینڈھتے پھرتے ہیں وہ رتبوں پر
اور ہستی و نیستی میں ہم

زندگی بھر نہ پا سکے پینشن
گھر جوائی کی نوکری میں ہم

نیب والوں کا دستِ شفقت ہے
"ہیں بہت تیز روشنی میں ہم”

خاک چاٹی ہے ہر زمانے کی
خوار ہیں زعمِ آگہی میں ہم

سگِ لیلٰی سے کرتے ہیں چہلیں
بی بی لیلٰی کی دلبری میں ہم

حرصِ زر سے ہوئے ہیں بدشکلے
اب کہاں جونِ آدمی میں ہم

تین وہ بھی جہیز میں لائی
اور رکھتے تھے دو بری میں ہم

کچھ تو کہتے تھے وہ محبت میں
کچھ تو سنتے تھے گوجری میں ہم

کھاتے آئے ہیں پٹخیاں کیا کیا
زندگی کی شناوری میں ہم

اُن کے پلے ظفر پڑے نہ پڑے
بات کرتے ہیں شاعری میں ہم

Advertisements