انگلیاں دانتوں میں مت داب، مرے اپنے ہیں
گو نہیں مجھ سے جد و آب، مرے اپنے ہیں

کھینچنا جانتے ہیں پاؤں سے نیچے کی زمیں
اِن کے ذمے ہے یہی جاب، مرے اپنے ہیں

چٹکیاں بھرنے کو سب داؤ لگا لیتے ہیں
یہ الگ بات کہ احباب مرے اپنے ہیں

سب اڑنگی مجھے دینے پہ کمر بستہ ہیں
اور یہ گوہرِ نایاب مرے اپنے ہیں

یونہی کہتا نہیں یاروں کو ہونق و چول
مل چکے ہیں مجھے القاب، مرے اپنے ہیں

اور لوگوں کو میں کہتا ہوں سلوشن کے لئے
پیدا کردہ یوں تو اسباب مرے اپنے ہیں

آئینے جھوٹ کے خوگر نہیں تسلیم مگر
آئینہ خانوں کے آداب مرے اپنے ہیں

میرے بچوں سے ہے ہر وقت کوئی ہنگامہ
یہ سبھی رستم و سہراب مرے اپنے ہیں

مانگے تانگے کے نہیں میرے خیالات ظفر
مجھ مین جو ہیں پرِ سرخاب مرے اپنے ہیں

Advertisements