تمھارے ویر کی مونچھوں سے گڑبڑائے ذرا
وہ دل کی بات زباں پر نہ لانے پائے ذرا

خلیج کوئی بھی ناقابلِ عبور نہیں
کسی بھی شام وہ دیکھے پلا کے چائے ذرا

وہ جس کو شوق تھا ہر بُت پہ مرنے مٹنے کا
رہائشِ دل و جاں کے بھرے کرائے ذرا

پڑوسیوں کو بھی بے خوابیوں کی ڈوز ملے
"غزل سمجھ کے مجھے کوئی گنگنائے زرا”

مسابقت میں اُسے "پی ٹی آئی” سی دوں گا
جنابِ قیس مجھے دشت میں بلائے ذرا

دیا نہ ہو میری صحت پہ مجھ کو طعنہ کوئی
کہا ہے اُس نے مجھے کیسے "ہائے گائے” ذرا

میں اُس کی چپ کے ہنر کو سلام پیش کروں
وہ کم سخن جو سرِ بزم ہنہنائے ذرا

مری خودی تو بہر طور سر بلند رہے
نہ گدگدی ہو اگر وہ بھی گدگدائے ذرا

اگرچہ کہنے کو وہ ہے بہت شریف النفس
چبا ہی جائے کوئی داڑھ میں جو آئے ذرا

جمع کے صیغے میں فربہ بدن پہ طنز نہ ہو
کوئی سمجھنے کی کوشش کرے کنائے ذرا

وہ بے نیازی سے کہہ بیٹھتا ہے اب بھی "دفع”
میں اُس سے روٹھوں تو وہ بھی مجھے منائے ذرا

ظفر کو یونہی تو شاعر نہ مانا جائے گا
وہ اونٹ کی طرح محفل میں بلبلائے ذرا

Advertisements