شہادت مستقل اک سرخئ تحریرِ آزادی
لہو پیرایہء مرداں پئے تفسیرِ آزادی

لہو کی شاہراہوں پر چلے تو پائیں گے منزل
غلاموں کے لئے ہے نسخہء اکسیرِ آزادی

لگاتے جا رہے یں اپنی جانب سے ہمیں چرکے
بناتے جا رہے ہیں دل میں وہ تصویرِ آزادی

جو ہم کو آزماتے ہیں وہ آخر منہ کی کھائیں گے
ہم اُن سے چھین لیں گے ایک دن کشمیرِ آزادی

بنامِ امن کتنے معرکے درپیش ہیں اب بھی
نہ زنگ آلود ہونے دیجیئے شمشیرِ آزادی

ظفر صورتِ گرِ امکان ہیں اس قوم کے بیٹے
خرابے سے اُٹھائیں گے نئی تعمیرِ آزادی

Advertisements