عشق دیوانہ ہوا شوخوں کا میلہ دیکھ کر
آگئے شکرے کئی چڑیوں کا چمبا دیکھ کر

بال کٹوا کر ملی ہو گی بڑی آسودگی
ٹنڈ کرواتے، ہمیں بھی لطف آتا دیکھ کر

جس کو بھی موقع ملا اُس نے کسر چھوڑی نہیں
ہاتھ دھونے لگ گیا ہے بہتی گنگا دیکھ کر

سب مریدِتوند ہیں، افسوس کاہے کا، اگر
ہم وفاداری بدل لیں دال دلیا دیکھ کر

باہمی نسبت یقیناً ہے کوئی خود کار سی
لیڈروں کی یاد آ جاتی ہے لوٹا دیکھ کر

کام نہ آئے گی پھر لاحول کی کوئی سپر
اِک چپت جڑ دیں اگر ہم سر کو ننگا دیکھ کر

ٹاک شو کے غلغلوں کا لطف آتا ہے بہت
یا بٹیروں کی لڑائی کا تماشا دیکھ کر

عقل کو رکھنا ہے باڈی گارڈ راہِ ذیست میں
حُسنِ کافر ٹھگ نہ لے مجھ کو اکیلا دیکھ کر

نغز گوئی کو سمجھتا ہے وہ کوئی میڈیسن
چچا غالب یاد آئے جس کا چچا دیکھ کر

جو گِلے کا سوز تھا وہ بھی گلَے میں آ گیا
ہو گئے سب فین شاعر کم گویّا دیکھ کر

Advertisements