بقدرِ جراتِ اظہار جھوٹ بولتے ہیں
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں

خود اپنے بچوں کی گنتی بھی یاد رہتی نہیں
جناب شیخ بھی ناچار جھوٹ بولتے ہیں

زیادہ جھوٹ نہیں بولتے کبھی لیڈر
یہ صرف پیر تا اتوار جھوٹ بولتے ہیں

میں ماتنا ہوں کہ جھوٹے ہیں سب کے سب شاعر
یہ دیکھ کتنے مزیدار جھوٹ بولتے ہیں

یہ اشتہار ہواؤں میں ہیں محل کی طرح
تمام تر در و دیوار جھوٹ بولتے ہیں

اگرچہ کہنے کو سچائیوں کے داعی ہیں
کبھی کبھی سرِ بازار جھوٹ بولتے ہیں

یہی وطیرہ ہے سب لیڈرانِ قومی کا
ہمیشہ ہر جگہ ہر بار جھوٹ بولتے ہیں

یہ ٹاک شو کے سجیلے ہیں کس جہان کی شے
جو روز و شب یونہی بیکار جھوٹ بولتے ہیں

ہمیں کو کلفتیں کیسی ہیں بے وفائی پر
سبھی سے یارِ طرحدار جھوٹ بولتے ہیں

ہم ایسے ہیں، درِ ابلاغ باز ہو جائے
تو کر کے روزنِ دیوار جھوٹ بولتے ہیں

ظفر میاں یہ تقاضہ ہے دورِ حاضر کا
کہ آج کل تو سمجھدار جھوٹ بولتے ہیں

Advertisements