حسین لوگ نہ لائیں گے پیار کا موسم
تو مشتہر نہیں ہو گا شکار کا موسم

سنا ہے نام بھی اُن کا بہار بیگم ہے
وہ جن کے آنے سے آئے بہار کا موسم

وہ ووٹ لینے کو آئیں گے پھر سے منہ دھوئے
اگرچہ بیت چکا اعتبار کا موسم

کسی کا عقد ہے سو تاڑؤں کی چاندی ہے
کسی گلی میں ہے حُسن و سنگھار کا موسم

کیا تھا یونہی ذرا اختلاف سسروں سے
طویل عرصے سے ہے تو تکار کا موسم

تمھارے ویر کے تیور نے ٹھپ دیا ہے ہمیں
بلاتا رہ گیا شہرِ نگار کا موسم

یہ وہ بطخ ہے جو سونے کا انڈہ دیتی ہے
بدلنے دو نہ غریب الدیار کا موسم

طلسم کیسا کیا واپڈا کے لوگوں نے
سکوں کی رُت ہے نہ کوئی قرار کا موسم

جنابِ شیخ کے ذ مے ہے ٹیم کرکٹ کی
سو اُن کے گھر میں ہے پھر سے اچار کا موسم

وہ گھومتے نظر آتے ہیں گاڑیوں میں ظفر
مرے نصیب میں گرد و غبار کا موسم

Advertisements