کب کسی کو رہنما درکار ہے
ووٹروں کو بس گدھا سرکار ہے

صرف موبائل کا بیلنس چاہئیے
یا سہاگن کو پیا درکار ہے

اب یہی مخلوق پائی جاتی ہے
مجنوںِ لیلیٰ نما درکار ہے

مئے نہیں تو آبِ سادہ ہی سہی
ایک ساغر ساقیا درکار ہے

کہہ اُٹھے ذکرِ تجرد پر میاں
زندگی میں یہ خلا درکار ہے

ہم میاں کم شاعروں پر زیست کا
تنگ ہے کچھ قافیہ ، درکار ہے

عاشقِ صادق کی حاجت تو نہیں
آپ کو چکنا گھڑا درکار ہے

ہر کوئی ہیرو ہے اپنی رائے میں
ہر کسی کو آئینہ درکار ہے

شاعروں کو شعر سننے کے لئے
شوہروں سا بے نوا سرکار ہے

لیلیٰ مجنوں دوبدو ملتے نہیں
فیس بُک کا رابطہ درکار ہے

شاعری مرہونِ پرفارمس ہوئی
شعر پڑھنے کو گلا درکار ہے

Advertisements