بساطِ دل پہ میں ہرتا رہا ہوں
کسی کو یوں فتح کرتا رہا ہوں

مسائل سے نمٹنا بھی نہ آئے
بھنور میں پاؤں بھی دھرتا رہا ہوں

مسافت اور لاحاصل مسافت
یہ جرمانے بھی میں بھرتا رہا ہوں

تری خاطر نہ خود کو مار ڈالوں
میں اپنے آپ سے ڈرتا رہا ہوں

وہ کہتے ہیں کہ یہ عادت ہے میری
غریبِ شہر ہوں مرتا رہا ہوں

Advertisements