فوٹو اسٹیٹ وہ مدر کی ہے
ساری خُو بُو اُسی کے شر کی ہے

کیمروں کو نہ کھنگ لگ جائے
وہ بہت "سیلفی” کاِ ٹھرکی ہے

وہیں چندھیا گئیں مری آنکھیں
ٹنڈ پر اُن کی جب نظر کی ہے

"مُجھ نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے” میاں
گو یہ کھیتی ہمارے گھر کی ہے

ساری پرموشنیں اُسی کی ہیں
آج جس کی زباں بٹر کی ہے

بعض سرکار کے اداروں میں
افسری سے سوا کلرکی ہے

دل کو ڈالو نکیلِ ہوش و خرد
عافیت اب اِسی میں سر کی ہے

چاپلوسی بھی سیکھنا ہو گی
کامیابی کی یہ اگر کی ہے

دشمنوں سے گلہ نہیں بنتا
دوستوں نے بھی کب کسر کی ہے

مجھ کو جوکر پکارتا ہے کوئی
داد یہ بھی مرے ہنر کی ہے

Advertisements