اُن کی نظر میں عاشقِ مہجور کچھ نہیں
جمہوریت میں جس طرح جمہور کچھ نہیں

قانون چوہے دان ہے ہم آپ کے لئے
جب اُن پہ بات آئے تو دستور کچھ نہیں

تگنی کا ناچ کیسے نچاتا ہے آپ کو
جب دیکھنے میں وہ بُتِ مغرور کچھ نہیں

بے اُجرتے ہیں ناز اُٹھانے کے واسطے
گویا اوقاتِ بندہء مزدور کچھ نہیں

آنکھوں سے مت پلائیے، ہاتھوں سے دیجئے
چائے ملے تو بادہء مخمور کچھ نہیں

اب تو جہاں بھی کھاپے نظر آئیں پل پڑو
اب تو کسی جماعت کا منشور کچھ نہیں

ٹھینگے پہ ہم کو یار نے رکھا ہے عمر بھر
نزدیک تھے تو کیا تھے کہ اب دور کچھ نہیں

سوغاتِ خاص آپ کی خاطر؟ ضرور جی!!
لیکن ہمارے شہر کا مشہور کچھ نہیں

ویسے تو ہڈ حرامِ زمانہ کے واسطے
کیا کچھ نہیں ہے، میرا ہی مقدور کچھ نہیں

اِتنا بھی مان اچھا نہیں ہے عزیزِ من
میک اپ نہ ہو تو آپ کی یہ حور کچھ نہیں

آخر کو اپنے حُسن پہ اِترا رہے ہیں کیوں؟
وہ بھی کہ جن کے سامنے لنگور کچھ نہیں

بزمِ سخن میں شعر سُنیں کس طرح ظفر
جب گائیگی و طبلہ و طنبور کچھ نہیں

Advertisements