کس موج میں اُس خواب نگر جاتا ہوں اکثر
میں خود سے بھی کترا کے گزر جاتا ہوں اکثر

یہ کیسی مسافت مرے پاؤں سے بندھی ہے
منزل ہی نہیں ہے تو کدھر جاتا ہوں اکثر

ادراکِ غمِ ذات کوئی خاک کرے گا
محفل میں تو آکر میں سنور جاتا ہوں اکثر

یا چاند ستاروں کو سناتا ہوں فسانے
یا شام کے منظر میں بکھر جاتا ہوں اکثر

تنہائی جسے آپ سمجھتے ہیں۔۔۔۔ وہ کوئی
پاتال ہے، میں جس میں اُتر جاتا ہوں اکثر

اُس شہر کی تجسیم میں حصہ ہے مرا بھی
جس شہر سے بادیدہء تر جاتا ہوں اکثر

رستے میں نظر آئیں گے قطرے مرے خوں کے
دیتا ہوا میں اپنی خبر جاتا ہوں اکثر

تاریکی کا حصہ نہیں بنتا کسی شب بھی
آنکھوں میں لئے خوابِ سحر جاتا ہوں اکثر

Advertisements