کہا تھا ہم کو پیارا کس لئے جی
اور اب جوکر پکارا کس لئے جی

پڑے رہئیے گا یونہی پالنےمیں
کوئی دے گا ہلارا کس لئے جی

سبھی اپنے گھروں میں ہیں سکوں سے
ہمارے سر پہ آرا کس لئے جی

کسی کے غم میں گھلنا تھا کسی نے
بنا آلو بخارا کس لئے جی؟

ہمارے آپ ہی ڈیفالٹر ہیں!
ہمیں سے پھر ادھارہ کس لئے جی؟

زمانے بھر میں آخر اِک ہمیں کو
"خسارے پر خسارا کس لئے جی؟”

کیا ہے آپ کی فرقت نے ایسا!
میں لگتا ہوں چھوہارہ کس لئے جی؟

گرانٹیں کھاتے آئے ہیں ازل سے
شکم میں اب اُپھارا کس لئے جی

عوام الناس پر لادا گیا ہے
بجٹ کا ہر خسارا کس لئے جی

بہت سی شادیاں کر کے بھی ٹھہرا
وہ سائینس کا کنوارا کس لئے جی

ہمارے شہر میں دہکے نہیں کم
بلاتے ہو ہزارہ کس لئے جی

سبھی فتنے کی جڑ کا پوچھتے ہیں
بتاؤں میں تمہارا کس لئے جی

ظفر کو آپ کہتے تھے فدائی
یہ اب بے اعتبارا کس لئے جی

Advertisements