خضابوں سے نویلی زندگانی لے کے آیا ہوں
بڑھاپے پر سجا کر نوجوانی لے کے آیا ہوں

میں اُس جمہوریت کو پیر اپنا مان لوں کیسے
سدا جس در سے تعویزِ گرانی لے کے آیا ہوں

محبت عقد میں ڈھل کر محبت رہ نہیں سکتی
حماقت اور وہ بھی جاودانی لے کے آیا ہوں

خدا جانے مجھے اپنا مزارع کیوں سمجھتی ہے
زنانی لایا ہوں یا چوہدرانی لے کے آیا ہوں

تعلقات میں اب کے توازن یونہی رکھنا ہے
وہ شعلہ بن کے نکلا ہے میں پانی لے کے آیا ہوں

سبق سیکھا نہیں ہے جوتیاں کھا کر بھی دنیا سے
"وہی وردِ محبت کی کہانی لے کے آیا ہوں”

ترا قاصد بھی کیا شے ہے یہ مجھ سے آ کے کہتا ہے
میں ایم ایم ایس ہوں پیغام زبانی لے کے آیا ہوں

مری بیوی جسے پا کر بہت اتراتی پھرتی ہے
وہی تحفہ میں بہرِ نوکرانی لے کے آیا ہوں

سمجھ میں ہی نہیں آتا ترے ویروں نے کیوں پینجا
ترے کوچے میں اکثر بے دھیانی لے کے آیا ہوں

میری بیوی گزشتہ پیر سے اس پر ہے اکھڑی سی
میں آخر کس خوشی میں شیروانی لے کے آیا ہوں

ظفر مجھ کو کہیں شوگر کی بیماری نہ ہو جائے
جہان تلخ میں شیریں بیانی لے کے آیا ہوں

Advertisements