موسم کی لغت میں دیکھا ہے
پائی ہے بہاراں اور ہی شے
دھرتی نے پہنا ہے سبزہ
اور چاروں اور دھنک کی مئے

بے برگ شجر کے کیا کہنے
پتوں کے تمغے ہیں پہنے
آسیب تھے ویرانی کے جہاں
پھولوں کے وہاں پر ہیں گہنے

خوش رنگ پرندوں کی ٹولی
گاتی ہے کچھ اپنی بولی
بکھری ہیں خوشی کی چہکاریں
جس جانب کو بھی یہ ہولی

کیا جادہ ہے کیا آنگن ہے
ہر گوشہ رشکِ گلشن ہے
اب جدھر کو اُٹھتی ہیں نظریں
جادوئی حُسن ہے جوبن ہے

جھونکے ہیں صبا کے شوخ بڑے
پھولوں کی باس اُڑا کے چلے
سانسوں میں ہماری اُترے تو
چہرے تا بہ دل کھل اُٹھے

یہ افسانہء ہوش رُبا
موسم کی لغت میں ہی پایا
ہم جن شہروں کے باسی ہیں
اُن میں ہے رُت کا رنگ جدا

شہروں میں بہاراں کے جلوے
انداز جدا ہیں لئے ہوئے
لگتے ہیں رنگوں کے میلے
جب نیٹ کا کنکشن ٹھیک چلے

شہروں کی راہگزاروں پر
پھولوں کے پودے لگتے ہیں
جب فنڈز کو ضائع کرنا ہو
جب ناظم شہروں کے چاہیں

خوش رنگ پرندوں کو اُس دم
پاتے ہیں فضاؤں میں بھی ہم
جب ائر پلوشن ماند پڑے
جب سفوکیشن ہو کم کم

جب سوشل محفل میں جائیں
نسوانی پیکر لہرائیں
سُرخی و غازہ میں لپٹے
جادوئی حُسن کو ہم پائیں

کرتے ہو صبا کی بات، ارے!
یاں سانس بھی ہم لینے سے گئے
ملتی ہیں بہاروں کی خوشیاں
جب بجلی آنکھیں نہ پھیرے

روٹی چھپر کی فکر کبھی
رہنے نہ دے آسودہ بھی
سمجھو کہ بہاراں آتی ہے
جب تنخواہ بڑھتی ہے اپنی

Advertisements