عشق بھی جز جوششِ حرص و ہوا کچھ بھی نہیں
حُسن بھی میک اپ کے دہوکے کے سوا کچھ بھی نہیں

ہر کسی کو اینکرانِ نیوز چینل کی طرح
بولنے کا شوق ہے اور مدعا کچھ بھی نہیں

ازدواجی زندگی کی پیشیاں بھگتے رہو
اس سے بہتر نسخہء بالِ صفا کچھ بھی نہیں

بیویاں ہوں ساتھ تو سمجھو میاں مارے گئے
بہرِ شاپنگ جس قدر ہو روکڑا کچھ بھی نہیں

یہ ستمگر اُس سے ہر شعبے میں سبقت لے گیا
آج کے انسان کے آگے گدھا کچھ بھی نہیں

اُس کا چشمہ گم نہ ہوتا تو وہ کہہ سکتا نہ تھا
"میں نے اُس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں”

ہیر کو رانجھے بہت مجنوں کو لیلائیں بہت
با شمولِ عشق تو اب دیر پا کچھ بھی نہیں

آئینے کو بھی وہ جھٹلا سکتے ہیں اک آن میں
جب گمانِ حُسن ہو تو آئینہ کچھ بھی نہیں

اُس پہ بھی داد و دہش کے ڈونگرے برسے ظفر
جس غزل میں جز ردیف و قافیہ کچھ بھی نہیں

Advertisements