مرے خلوص کو ظالم کہاں سمجھتے ہیں
ہر اک سخن کو سیاسی بیاں سمجھتے ہیں

اِک ایسی بیوی کے شوہر بنے ہیں کہ توبہ!
تمام گونگے ہمیں ہم زباں سمجھتے ہیں

وہ فیس بُک میں تو مس نازنین بنتے ہیں
جو جانتے ہیں وہ گل شیر خاں سمجھتے ہیں

فنِ روباہی میں اں کو کمال حاصل ہے
کسی کو تیر کسی کو کماں سمجھتے ہیں

کسی کے جلوؤں نے میک اپ کا وہ سماں باندھا
جو دیکھتے ہیں وہ اس کو دکاں سمجھتے ہیں

کچھ ایسے بھی ہیں سمجھدار اس زمانے میں
کبوتروں کو بھی اکثر جو کاں سمجھتے ہیں

کبھی جو مجنوں میاں دیکھیں قبل از میک اپ
تو لیلٰی کو بھی وہ لیلٰی کی ماں سمجھتے ہیں

ہزار خود کو میں بقراط کر کے لے آؤں
وہ بیوقوف مجھے جاوداں سمجھتے ہیں

مرے مزاج میں کچھ اس قدر ہے عجز ظفر
سسر میاں مجھے اللہ کی گاں سمجھتے ہیں

Advertisements