( نظم لکھنے کی فرمائش پر)


سر خمیدہ آپ کی تاکید پر

پر قلم رُک جاتا ہے تمہید پر
نظم لکھوں کس طرح امید پر

کوئی بھی صورت نہیں امید کی
سوجھتا کچھ بھی نہیں ہے کیا کروں
لوڈ شیڈنگ ہو گئی تقدیر میں
ایک ہی رنگِ حزیں ہے کیا کروں
نظم لکھوں کس طرح امید پر

نوکری پہلے بھی حلوہ تو نہ تھی
اب تو ہے دشوار سے دشوار تر
باس نے اکتا کے بھی چھوڑا نہیں
طنزیہ انداز ہر ہر بات پر
نظم لکھوں کس طرح امید پر

لیڈروں میں ٹھہرا اِٹ کتے کا بیر
دیکھ کر ان کو بہت کڑھتے ہیں سب
اور جھگڑے کی وجہ کوئی نہیں
میرے کمبل کے لئے لڑتے ہیں سب
نظم لکھوں کس طرح امید پر

سیلری یوں کہنے کو ہے منتھلی
ختم ہو جاتی ہے پندرہ روز میں
اور پھر قرضہ کوئی دیتا نہیں
اس مری دنیائے کینہ طوز میں
نظم لکھوں کس طرح امید پر

کس قدر خمیازہء بیم و رجا
روز ہی اعصاب پر آ کر گرے
نا امیدی کا یہ عالم ہائے ہائے
اب تو بیوی بھی نہیں امید سے
نظم لکھوں کس طرح امید پر

Advertisements