محترم ہے اس لئے بھی ہر گدھا خاصا مجھے
لیڈرِ قومی نظر آتا ہے اِن جیسا مجھے

کیا بتاؤں کس قدر بھیلی ہیں بانچھیں عشق کی
جب کسی کی یاد نے یکدم کیا ہے "تا” مجھے

میں بھی اُس بُت کے لئے انگنائی میں نکلا کروں
سانس لینے دے اگر ہمسائے کا کتا مجھے

وہ مجھے جوگر سمجھ کر مسکرائی گی بھلا؟
وہم ہے کہ ڈالنے دیتا نہیں بھنگڑا مجھے

مجھ پہ بھی نظرِ کرم ہے اور رقیبوں پر بھی ہے
یار لگتا ہے محبت میں بہت بھینگا مجھے

وصل کی ٹھہرائی ہے کس گوشہء پاتال میں
احتیاطِ عشق میں کرنا پڑا تانگا مجھے

ہر کسی کی تاڑ کا محور تری ہی ذات تھی
کیوں بھری محفل میں تیرے ویر نے گھورا مجھے

اس قدر پھینٹا رقیبوں نے کہ لنگڑا کر دیا
صورتِ کیدو نظر آنے لگا رانجھا مجھے

Advertisements