پھر زقند اُس نے بھری ہے مجھ میں
کوئی دیوار گری ہے مجھ میں

چین لینے نہیں دیتی مجھ کو
ایک آشفتہ سری ہے مجھ میں

ہائے پھر نام ترا سنتے ہی
گونج یہ کیسی اٹھی ہے مجھ میں

اپنے سائے میں ہی سستا لیتا
دہوپ کیوں جاگ رہی ہے مجھ میں

کس قدر مجھ کو کھلائے گی سحر
رات بھر اوس پڑی ہے مجھ میں

ہاتھ ماتھے سے اٹھا جب تیرا
آگ پھر جلنے لگی ہے مجھ میں

آگہی کیسے تذبذب میں ہے
مستقل جھانک رہی ہے مجھ میں

´خود سے کیوں مجھ کو رہائی نہ ملی
کس قیامت کی گھڑی ہے مجھ میں

آئینے چیخ رہے ہیں ناحق
میری اپنی ہی نفی ہے مجھ میں

نامناسب نہیں تیری منطق
پر یہ خفگی جو بھری ہے مجھ میں؟

غمِ جاناں کے علاوہ بھی ظفر
کوئی زنجیر زنی ہے مجھ میں

Advertisements