رہنماؤں میں وٹے سٹے ہیں
کرسیوں کے لئے اکٹھے ہیں

کیا حکمران کیا اپوزیشن
ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں

اب تو بھونکوں سے بھی نہیں کُھلتا
کس کی گردن میں کس کے پٹے ہیں

یہ ہے جزوِ حجاب یا فیشن
کیوں گلو بند یہ دوپٹے ہیں

ذات کا ہی نہیں ہے جٹ کوئی
اُس کے نطق و بیاں بھی جٹے ہیں

عشق خالہ کا گھر نہ تھا پہلے
اب یہ انگور سخت کھٹے ہیں

تیرا طرزِ سخن ہے پشتونی
یا لڑھکتے ہوئے سے وٹے ہیں

یہ مآلِ بیان بازی ہے
اپنے تھوکے ہوئے ہی چٹے ہیں

تیرے غم کی جگالیوں کے سبب
تیرے بیمار ہٹے کٹے ہیں

یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں ظفر
سارے اسباقِ عشق رٹے ہیں

Advertisements