چُور چُور ہو جائے کیوں نہ مان شیشے کا
جب ہتھوڑے سے لو گے امتحان شیشے کا

ہو چکے ہیں نسواری ، آپ نہ سُنیں تو کیا
خان جی سناتے ہیں "داستان شیشے کا”

لگ رہا ہے کہ وٹہ تیری کھوپڑی میں ہے
کوئی توڑ کر دیکھے مرتبان شیشے کا

یہ تو بھائی صاحب نے سیفٹی کی حد کر دی
ہیلمٹ چڑھائے ہے اِک پٹھان شیشے کا

انگلیاں تو اُٹھنی ہیں سنگ زنی تو ہونی ہے
دے رہا ہے جب ظالم تُو بیان شیشے کا

سیخِ عشق پر دیکھیں کب تک بھنگڑا ڈالیں گے
موم جیسی لڑکی اور نوجوان شیشے کا

بالیقیں مرے سر پر پھوڑنا ہے بیگم نے
شیش گر سے لایا ہوں جو سامان شیشے کا

آج شیشہ بازوں سے چھیڑ خانیاں کیسی؟
جب کیانی صاحب کا ہے کیان شیشے کا

Advertisements