پیر سالی میں غمِ زلفِ گرہ گیر بھی تھا
کسی خاتون کو یوں شکوہء تقدیر بھی تھا

زن مریدی میری فطرت کا تقاضہ ہی نہ تھی
امنِ خانہ کے لئے نسخہء اکسیر بھی تھا

اپنےنسخوں کی ہی ڈوزوں پہ دھرے رکھتے ہیں
میں پئے چارہ گراں صورتِ کشمیر بھی تھا

ایک ہی صف میں کھڑے تھے یہاں محمود و ایاز
زن مریدی میں مریدوں کی طرح پیر بھی تھا

کیپ رکھی تھی جو سر پر تو وجہ تھی یہ بھی
دستِ زوجہ میں شبِ رفتہ کو کفگیر بھی تھا

دل کا اسکین کیا ہے تو کھلا ہے ہم پر
غمِ لیلٰی بھی تھا مجنوں کو غمِ ہیر بھی تھا

آج تک بات نہ مانی تھی کسی کی جس نے
بات بے بات پہ وہ مائلِ تقریر بھی تھا

کوئی بہرہ ہو تو ممکن ہے کہ بے بہرہ ہو
ورنہ شاعر کو جو ٹکرا وہی نخچیر بھی تھا

آپ نے بھانڈ ہی سمجھا تو ظفر کیا کرتا
اِن کا اندازِ سخن یوں تو ہمہ گیر بھی تھا

Advertisements