برباد دسمبر میں مری خاک بہت ہے
آنکھوں کی طرح ناک بھی نمناک بہت ہے

سسرال کے سیلاب کا رخ بھی ہو ادھر کیوں
بیوی کی جو مجھ پر ہے وہی دھاک بہت ہے

باتوں میں بھی میں میں کا پہاڑہ ہے مسلسل
لیڈر کا مگر طرہء پیچاک بہت ہے

کرتا نہیں اب خیمہ لگانے کا تردد
بیگم کا یہ برقعہء شٹل کاک بہت ہے

یہ عقل کی باتوں کا زمانہ نہیں ہرگز
اور اس میں ہے جو نقطہء ادراک بہت ہے

اب خوف نہیں بجلی کے جھٹکے کا کسی کو
بجلی کے جو بل میں ہے وہی شاک بہت ہے

اسمارٹ و سلم ہونے کا جب شوق ہے دل میں
نہ کھا کے بھی خاتون کی خوراک بہت ہے

پنکی نہیں ملتی ہے محلے میں کسی سے
پنکی کی محلے میں مگر ٹاک بہت ہے

جنجال یونہی عقد کا پالو نہ کنوارو
ہنگامہء ہستی تہِ افلاک بہت ہے

Advertisements