بحث کرتے ہوئے بیگم سے بھی ڈر لگتا ہے
گفتگو ہوتی نہیں پھر وہ غدر لگتا ہے

تُو منافق نہیں ویسا ہی ہے باہر سے بھی
جیسا کالا تیرے اندر کا کلر لگتا ہے

یوں تو بھیگا ہوا الو نظر آتا ہے میاں
بیوی میکے ہو تو پھر اس کو بھی پر لگتا ہے

حُسنِ بیباک نے یہ دن بھی دکھایا ہے مجھے
میں جہاں پر ہوں وہیں نورِ نظر لگتا ہے

فلسفہ دان نظر آتا ہے الو سب کو
ایسا ہرگز نہیں ہوتا ہے مگر لگتا ہے

نئے انداز کا فنکار ہے سوتے میں کوئی
یہ جو خراٹوں سے ہے سازِ دگر لگتا ہے

بیویاں اس سے میاؤں پہ ظفریاب رہیں
ایک ہتھیار مجھے دیدہء تر لگتا ہے

اُس کی بنیاد میں بھونچال کبڈی کھیلے
جس عمارت میں کوئی مجھ سا پلر لگتا ہے

کرفیو آپ کے ابے نے لگایا ہے جہاں
مسکرانا بھی وہاں مجھ کو ہنر لگتا ہے

اب تو میک اپ نہیں کرتی مری بیوی اکثر
"میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے”

سائلینسر جو اُتارا ہے ظفر بائیک کا
پاپ سنگنگ کا ملہارا ہوا شر لگتا ہے

Advertisements