میں نظر وٹو سہی پیار ترا اور سہی
تیری سرکار میں اک چکنا گھڑا اور سہی

تیرے پیچھے مجھے پینجا ہے رقیبوں نے بہت
تیری نظروں میں مگر ایلِ وفا اور سہی

میاں مجنوں نے یوں پونی کہاں باندھی تھی کبھی
لیلٰی اک اور سہی لیلٰی نما اور سہی

عقد بھی کرنا پڑا ہے مجھے محبوبہ سے
عشق کے بعد مری ایک سزا اور سہی

کوئی ناراض ہے آئینہ دکھا دینے پر
خیر اس پر ہو بصد شوق خفا اور سہی

میری تنخواہ سے گر میچ کرے تو بے شک
عشوہ و غمزہ و نخرہ و ادا اور سہی

لیڈروں نے تو لگا رکھا ہے آگے کب سے
راستہ تو بھی کوئی مجھ کو دکھا اور سہی

بھوت لاتوں کا ہے باتوں سے کہاں مانتا ہے
سو ترے واسطے خوراک دوا اور سہی

میں ظفر ہوں مجھے تم لوگ ڈفر مت بولو
لینے والوں نے مرا نام لیا اور سہی

Advertisements