یوں تو ہم کو وہ سدا درسِ وفا ہی دیں گے
داڑھ کے نیچے ہم آئے تو دبا ہی دیں گے

فاعلاتن، فاعلاتن فاعلاتن کرتے
حالِ دل ہم ترے ابے کو بتا ہی دیں گے

استفادہ تو بہرحال انہیں کرنا ہے
کھا نہ پائیں گے جو مکھن تو لگا ہی دیں گے

اُس کو کرسی کی کوئی آس تو ہو لینے دو
اپنی تشریف پہ ایلفی وہ لگا ہی دیں گے

قرض دیتے ہیں تو پھر یاد سدا رکھتے ہیں
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے

یونیورسٹی میں ہے جلوؤں کا پرستان کوئی
طالب علم کو کچھ شوق نیا ہی دیں گے

جو الیکشن میں زبردستی گلے لگتے ہیں
مقتدر ہوں گے تو ٹھینگا بھی دکھا ہی دیں گے

جان لیں عشق ہے رانجھے کا جناب کیدو
کوئی مکھی تو نہیں ہے کہ اُڑا ہی دیں گے

وہ چڑیلوں سی ہیں تو کیا ہے کہ اُن کا میک اپ
دیکھنے والوں کو رنگین نگاہی دیں گے

Advertisements