دسمبر آ گیا پھر
ہمارا کیا گیا پھر

زمانے بھر کے شاعر
اِسی کو پڑ رہے ہیں
جسے دیکھو اُسی کو
چمونے لڑ رہے ہیں

قلم سونتے ہوئے ہیں
صفحے جکڑے ہوئے ہیں
کہاں بھاگیں گے مصرعے
مزاج اکڑے ہوئے ہیں

سمے لگتا ہے، اِن کے
اشارے پر چلے گا
لکھیں گے نظم تو پھر
دسمبر جا سکے گا

ابے او جنوری تُو
ذرا جلدی سے آ جا
دسمبر پھنس گیا ہے
مصیبت سے چھڑا جا

Advertisements