یہ رمز ترقی کی بھلا کیوں نہیں آتی
چڑھتے ہوئے سورج کی ثنا کیوں نہیں آتی

ہر رنگ کی دے دی ہیں طبیبوں نے دوائیں
ہے میری خطا مجھ کو شفا کیوں نہیں آتی

وہ شربتِ دیدار کی حسرت میں پڑا ہے
مہمان کو مشروب پلا کیوں نہیں آتی

اس حبس کے عالم میں تو دوچند ہوا ہے
یہ غم کہ مسّمات صبا کیوں نہیں آتی

پرچار ہے رشوت کا سفارش کا بہر سُو
پھر آپ کو جینے کی ادا کیوں نہیں آتی

ایسی ہی اگر پٹی پڑھانے میں ہے ماہر
اسکول کے بچوں کو پڑھا کیوں نہیں آتی

بجلی ہوئی عنقا مرے گھر سے تو ستمگر
لے کر رُخِ زیبا کا دیا کیوں نہیں آتی

جس کے لئے پٹتا رہا منظر سے ہے غائب
پھر اُس کی گواہی کی ندا کیوں نہیں آتی

یہ بات تو خود ایک لطیفہ ہے یہاں پر
یہ شکوہ کہ لیڈر کو حیا کیوں نہیں آتی

یہ چھت پہ کھڑا سوچ رہا ہے کوئی کب سے
اب کپڑے سکھانے کو ہما کیوں نہیں آتی

یہ کیا کہ فقط مجھ کو ہی تاڑو کہے دنیا
جلوؤن کی نظر کوئی خطا کیوں نہیں آتی

جب سارے زمانے میں یہی کہتی ہے مجھ کو
کہنے کو مجھے”چکنا گھڑا” کیوں نہیں آتی

اوروں کی بہو بیٹی پہ لکھتا ہے وہ غزلیں
اس بات پہ شاعر کوحیا کیوں نہیں آتی

Advertisements