جو ہُنر آج یہاں مِستری اُستاد میں ہے
اُس کی رتی بھی کہاں حضرتِ فرہاد میں ہے

اپنے کردار میں بونا نظر آتا ہے بہت
دیکھنے میں جو سراسر قدِ شمشاد میں ہے

تُو نے جو اِتنی نزاکت سے ”فنی“ بولا ہے
طنز کا تِیربھی اِس بار تری داد میں ہے

ممبرِ قومی اسمبلی میں یہ خوبی دیکھی
اولاً چور ہے ، لیڈر تو کہیں بعد میں ہے

اُس کی تشریف میں پھوڑا نہیں نکلا ہرگز
ایک مُدت سے ترے ہجر کی اُفتاد میں ہے

جیسا منہ متھا تھا ، جِن ویسا پہاڑوں لتھا
تیرے اجداد کی خوبی تری اولاد میں ہے

گاؤدی اُس کو کہا ”ی“ کو گرا کر کیونکر
بس اِسی بات کا غصہ مرے نقاد میں ہے

اُس کو موجد نہیں کہتی ہے نگوڑی دنیا
یہ خلش آج بھی حُسنِ ستم ایجاد میں ہے

کہیں جا کر کبھی کلغی نہیں نکلا کرتی
جیسا پنڈی میں تھا ویسا ہی وہ بغداد میں ہے

ایسے افراد کو سونپی ہے حکومت ہم نے
جن کی دلچسپی فقط آہن و فولاد میں ہے

میں نے بتلایا ہے پٹھہہ مرا کیسے بیٹھا!
دوستو ! کوئی لطیفہ مری رُوداد میں ہے؟

Advertisements