میرا دل تیری محبت کی امانت ٹھہرا
میں ازل سے ہی ترا حقِ وراثت ٹھہرا

پاؤں اُٹھتے ہی نہیں ہیں کسی رستے کی طرف
میں بھٹکنے کو بھی مرہونِ قیادت ٹھہرا

تُو بھٹکتا نہ پھرے ‘ اس لئے جانے کب تک
میں دیا لے کے سرِ عرصہ ظلمت ٹھہرا

تیرا میرا جو تعلق ہے’ سمجھنے کا ہے
تیرا ہونا میرے ہونے کی وضاحت ٹھہرا

کچھ نہ کہہ کر بھی میں کہہ جاتا ہوں’ جانے کیا کیا
میری خاموشی مرا طرزِ خطابت ٹھہرا

Advertisements