یوں منزل کا کوئی رستہ نہیں تھا
بھٹکنے کا مگر سوچا نہیں تھا

مری پوروں میں کیسی لو سی جاگی
ابھی وہ نام بھی لکھا نہیں تھا

زمین و آسماں کھو بیٹھتا میں
اندھیرا اس قدر گہرا نہیں تھا

میں خود سے بھاگنا چاہتا تھا لیکن
در و دیوار میں رستہ نہیں تھا

عجب تھی اُس کی بزمِ ناسپاساں
وہاں یوں تھا کہ میں گویا نہیں تھا

ہمارے حوصلوں نے جب بھی دیکھا
کوئی بھی آسماں اونچا نہیں تھا

Advertisements