"نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا”
ائر پورٹس کو آتے جاتے لاری اڈہ بھول گیا

اوپر نیچے کاکوں نے یوں کی ہے "تا” کہ پنکی کو
سارا عشوہ سارا غمزہ سارا نخرا بھول گیا

ایسی ایسی تان اڑاتے دیکھا ہم نے یاروں کو
بزمِ سخن میں کون ہے شاعر کون گویۤا بھول گیا

میک اپ مین کو اپنے فن پر ناز یونہی فیض رہا
میک اپ کیسا جب جلووں کا "ٹویا ٹبا” بھول گیا

برفیلی اشیاء کھانے پر بیٹے کو تو ڈانٹا ہے
بچپن میں خود کھاتا تھا میں گولا گنڈا بھول گیا

یوں تو پنکی آئیڈیل پر سمجھوتہ نہ کرتی تھی
دولت والا دیکھا تو سب گورا کالا بھول گیا

بعد از مدت ملنا ہے اور "نیب” کی صورت پوچھتے ہیں
کون فلانا یاد رہا اور کیوں ڈھمکانا بھول گیا

اُس کو دیکھا ہے تو فدوی پھر سے پونچھ ہلاتا ہے
اُس کے ویروں نے جو توڑا گوڈا گٹا بھول گیا

ووٹر کو بھی روزِ الیکشن یاد کہاں رہتا ہے ظفر
اپنے وطن میں کون ہے گھوڑا کون ہے کھوتا بھول گیا

Advertisements