کیوں دل میں یوں آئے بیٹھے ہو
کیا دے کے کرائے بیٹھے ہو

دھرنے یوں دئے کب جاتے ہیں
دھونی ہی رمائے بیٹھے ہو

ہو محوِ سخن موبائیل پر
آ کر ہمسائے بیٹھے ہو

تم اتنی "گو’ گو” ہونے پر
کیوں کر مغلائے بیٹھے ہو

میخانے میں بلوایا ہے
اور پینے چائے بیٹھے ہو

یہ دور ہے چکنی مٹی کا
تم "شائے شائے” بیٹھے ہو

رومان ہے اِس میں کیا رانجھے؟
کیوں بھینس چرائے بیٹھے ہو

لونڈوں میں تمہارا کام ہی کیا؟
کیوں سینگ کٹائے بیٹھے ہو

ہم لمبی واک سے ہو آئے
اور تم ہو کہ ہائے بیٹھے ہو

دھرتے ہیں تمہیں وہ ٹھینگوں پر
"کیا آس لگائے بیٹھے ہو”

اب رام کہانی سنو ظفرؔ
تم پوچھ جو "وائے” بیٹھے ہو

Advertisements