جن نقاط پر ٹھہرا زاویہ محبت کا
اب وہاں پھسلتا ہے حوصلہ محبت کا

ایک مجنوں بھائی کی سب نے ہی دھنا ئی کی
ہوگیا محلے میں واقعہ محبت کا

اور ہی رقیبوں کا رنگ ہوتا جاتا ہے
تنگ ہوتا جاتا ہے قافیہ محبت کا

اُن کے سر کی پٹی کو آپ کیا سمجھتے ہیں
وہ اٹھائے پھرتے ہیں تعزیہ محبت کا

جب کسی پر مرتا ہوں، زندگی بھر مرتا ہوں
عارضی نہیں ہوتا، عارضہ محبت کا

اب مقننہ میں سب چور ڈاکو مل بیٹھے
ہو گیا سیاست میں سانحہ محبت کا

یاد کیجئے تلخی ” دُر فٹے منہ “ سننے کی
جب کبھی بھی چکھنا ہو ذائقہ محبت کا

اور کیا کمائے گی، نیند ہی اڑائے گی
گیت جب بھی گائے گی فاخرہ محبت کا

روز اپنے شوہر کا یہ بجاتی ہے باجا
شعر جو سناتی ہے شاعرہ محبت کا

Advertisements