اہلِ وطن ہیں شور بپا گو نواز گو
بولیں اٹھا کے سر پہ سماء گو نواز گو

قربانی کی ہے عید تو قربانی ہے ڈیو
یا الوداعِ خان ہے یا گو نواز گو

ایسی فضا ہے اپنے وطن میں بنی ہوئی
بکروں کا غلغلہ بھی لگا گو نواز گو

نورے کے دو برس بھی مکمل نہیں ہوئے
کیوں چیختی ہے خلقِ خدا گو نواز گو

بالغ نظر ہی اس کے لئے مضطرب نہیں
بچے بھی نعرہ زن ہیں جدا گو نواز گو

غوغائے "دُر دفعان ” ہوا اس قدر کہ کل
قبروں سے آ رہی تھی صدا گو نواز گو

بچے نے ماں کے پیٹ میں دھرنا دیا بہت
نکلا تو نعرہ زن یوں ہوا گو نواز گو

جب تک میں "گو نواز” کاچورن نہ پھانک لوں
ہوتی نہیں ہے ہضم غذا گو نواز گو

جمہوریت کے درد سے پہلے تو ہاشمی
نعرے بہت لگاتا رہا گو نواز گو

آئے ہیں جوش میں تو زباں ہی پھسل پڑی
خود نون لیگیوں نے کہا گو نواز گو

یہ المیہ ہے جس کو بھی دیتے ہیں ووٹ ہم
پھر کہتے ہیں بطرزِ نوا گو نواز گو

Advertisements