عجیب لگتا ہے امید اِن سے رکھتے ہوئے
مقننہ کے سبھی جانور ہیں پرکھے ہوئے

بتادو ایسی کی تیسی ہوئی ہے جو تیری
کچھ اور لوگ بھی عزمِ سفر ہیں باندھے ہوئے

ترے گلاب سے مکھڑے کو پہنچ پائیں گے کیا
ہم آم کی طرح پیلے ہیں وہ بھی چوسے ہوئے

انہیں اٹھانے کو اب زلزلہ ہی آئے کوئی
کہ وہ ہیں کرسی پہ ایلفی لگا کے بیٹھے ہوئے

بھگا بھگا کے رقیبوں نے گھر ڈراپ کیا
ہم آئے جب بھی تمہاری گلی سے ہوتے ہوئے

کریں نہ فخر بہت ایٹمی دہماکوں پر
ہمارے گھر میں بہت بیگمی دھماکے ہوئے

ڈنر کے بعد کسی نے ڈکار یوں لی ہے
"اُڑا دئے ہیں پرندے شجر پہ نیٹھے ہوئے”

کبھی وہ لیلٰی کبھی ہیر پر نچھاور ہیں
زمانِ نو میں تو مجنوں میاں بھی لوٹے ہوئے

ہمارے سامنے جمہوریت کا نام نہ لیں
تمام اہلِ وطن ہیں اِسی کے ڈنگے ہوئے

تمہاری میٹرو سب کو نہال کر دے گی
مگر وہ لوگ جو سیلاب میں ہیں بہتے ہوئے

پرایا دھن تو فقط بیٹیاں نہیں ہوتیں
کہ بعد از عقد کئی لڑکے بھی پرائے ہوئے

ظفر ہمیں کو ہی کیوں طعنِ ہڈ حرامی ہے
تمام رات گزاری ہے تارے گنتے ہوئے

Advertisements