حُسن جب سے ڈرون پر آیا
عشق بھی ریڈ زون پر آیا

اُس نے بھی مصلحت سے کام لیا
جب سے میں اپنی ٹون پر آیا

چُپ کے لاکر میں وہ مقفل تھا
شکر ہے ۔۔۔ آپ کون؟ پر آیا

وہ جو کاٹن سا تھا کلف زدہ
آخرِ کار لون پر آیا

اپنے لیکھوں میں نارسائی رہی
وینٹ سے ہو کے گون پر آیا

فایدہ کچھ مذاکرات کا ہے
کوئی آدھے سے پون پر آیا

کیا ہوئیں لن ترانیاں اُس کی
وہ جو آخر کلون پر آیا

خوش گمانی کے سحر سے نکلا
کوئی پھر اپنےاون پر آیا

یوں میں کنگلا ہوں آپ کے در پر
جیسے گنجا سیلون پر آیا

اؐک رقابت نے یک بیک "تا” کی
عشق جونِ تکون پر آیا

ہم بھی آئے ہیں اپنی آئی پر
وہ بھی خُوئے فرعون پر آیا

لائقِ دید پھرتیاں ہیں ظفر
معاملہ جب سے تہون پر آیا

Advertisements