جو تری جنج میں نظر آیا
جانے کس رنج میں نظر آیا

حالتِ جنگ میں بھی ہو گا وطن
حالتِ گنج میں نظر آیا

وہی اندازِ خسروانہ ترا
جو مجھے منج میں نظر آیا

محفلِ موسیقی ہے یا دھرنا
میں شش و پنج میں نظر آیا

اُن کا ہر پینترا کچھ ایسا ہے
صرف شطرنج میں نظر آیا

"میں اٹک میں ہوں” فون پر کہتا
وہ شکر گنج میں نظر آیا

میرے "چل بھاگ” میں وہ زور کہاں
جو ترے "ونج” میں نظر آیا

قوم کو لُوٹنا ہوا لیڈر
فنِ اسفنج میں نظر آیا

جو سیاست کا بونگا پن ٹھہرا
ہر نوا سنج میں نظر آیا

Advertisements