اُن کو کہہ بیٹھا ہوں "رانی میری”
بے دھیانی ہے پرانی میری

خود پہ تنقید کہاں سُنتا ہے
"اور پھر وہ بھی زبانی میری”

ہوگئی پولی کلر سے صیقل
اب بڑھاپے میں جوانی میری

کیسے محبوبہ بناؤں اُس کو
جو ہے رشتے میں زنانی میری

اُن کی آنکھوں کو بھی چبھتا ہوں میں
جس کے گھر آنی نہ جانی میری

پی گیا ولز کی ساری ڈبی
کیسی فطرت ہے دُخانی میری

میں بھی ہتھے سے اکھڑ جاؤں گا
رنگ لائے گی پٹھانی میری

اُن کی مشاق نگاہی واللہ
رہ گئی تیر کمانی میری

سوچ مت کس کی ہے ایسی تیسی
دیکھ بس شیریں بیانی میری

میرا ماحول ۔۔۔دہی کی گڑوی
میرا انداز۔۔۔مدھانی میری

پاؤں آ جائے جو تیری دُم پر
سچ بھی آشفتہ بیانی میری

آپ ٹھینگے پہ دھریں تو کیا ہے
مان لیتا ہے کیانی میری

Advertisements