عجب شعار ستم گر نے اختیار کیا
کسی کو جھاڑ پلائی کسی سے پیار کیا

مسمی رانجھے کی لتر پریڈ تو ہو گی
اگر سماج نے کیدو کو تھانیدار کیا

اُسی کو گالیاں دینی ہیں ہم نے پانچ برس
وہ جس نے روزِ الیکشن ہمیں شکار کیا

وہ کہہ رہا ہے کہ تمباکو مضرِ صحت ہے
وہی تھا جس نے مجھے مائلِ سگار کیا

بلا کے گیٹ نہ کھولا ٹھٹھرنے والے پر
"تمام رات قیامت کا انتظار کیا”

پُڑھچھ لیا ہے اگرچہ ہر اک نشانے کو
مگر وہ تیرِ نظر جو جگر کے پار کیا

رہی عزیز وہ جمہوریت کہ جس نے ہمیں
ہمیشہ خوار کیا اور بار بار کیا

Advertisements