خواب ہائے غلام اور سہی
اور منشائے سام اور سہی

شاعری سے جسے الرجی ہے
"اِک غزل اُس کے نام اور سہی”

بھاری مینڈیٹ کے تناظر میں
اب شریفوں کے کام اور سہی

ہم کو درسِ وفا اُسی سے ملے
جو صبح اور شام اور سہی

ہو گئے معتبر سیاست میں
اب گدھوں کا مقام اور سہی

آپ کی چارہ سازیاں ہیں دگر
مینڈکی کا زکام اور سہی

ہیر کے در پہ ٹک گیا مجنوں
بہرِ دھرنا مقام اور سہی

نہیں مکتے ضمیر کے بھاشن
اب حلال و حرام اور سہی

نیتوں کی ہوس بھی اپنی جگہ
توند کا اب پیام اور سہی

ہم بھی لنگڑاتے چل رہے ہیں ظفر
رہروئے تیز گام اور سہی

Advertisements