ملے ہیں اب ترے کتے بھی آ کے رستے میں
جو چھوڑ جاتے ہیں اکثر بھگا کے رستے میں

تمہارے کوچے سے باہر قدم نہیں اُٹھتے
یہ کس نے پھینکی ہے چیونگم چبا کے رستے میں

ہزارہا ہمیں پھینٹا تمہارے ویروں نے
نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے پیں

فقط وہی تو ہیں فنکارِ کُلجگِ حاضر
جو چل پڑے کسی خواجہ سرا کے رستے میں

تری تلاش میں آ جاتا ہے ترا تاڑو
گدا نہیں ہے جو بیٹھے گا آ کے رستے میں

وہ عقد کرتے ہیں یا احتجاج کرتے ہیں
جو دھرنا دیتے ہیں تنبُو لگا کے رستے میں

لگا کے آگ وہی میرے گھر میں آئے ہیں
جو مل رہے تھے بہت مسکرا کے رستے ہیں

لگا ہوا تھا جہاں منزلوں کا سنگ میل
میں آ گیا ہوں رہیں سے خلا کے رستے میں

فروخت کرتے ہیں کس انقلاب کا منجن
بٹھا رہے ہیں جو سب کو بلا کے رستے میں

وہ گولی دیتا ہے یا میڈیسن کی ڈوز ظفر
یہ دیکھنے کو ہوں درد آشنا کے رستے میں

 

Advertisements